Mohra Sharif Official Urdu

Mohra Sharif Official Website in Urdu.

ثانی سرکارؒ

غوث زمان ، قطبِ دَوران اعلیٰ

  حضرت پیر محمد نصیر الدین رحمۃ اللہ علیہ

(المعروف  ثانی سرکارؒ)

Untitled008 copy

حضرت پیر محمد نصیر الدین (المعروف  ثانی صاحب) رحمۃ اللہ علیہ اخلاقِ قافلہ، امین، صاف گو، راست باز، دیانت دار اور وفا شعار تھے۔ آپؒ پر والد محترم خواجہ محمد قاسم قدس سّرہ کی خاص نظرِ شفقت تھی اور آپؒ سب سے زیادہ موردِ عنایات تھے۔ چنانچہ حضوُر قبلہ گاہی قدس سرّہ نے تمام انتظامات لنگر، گدّی سے متعلق اور دیگر مخلوق کے دینی اور دُنیوی اُمور آپ ہی کے سپُرد فرما رکھےتھے۔ ان موصُوف تقریباً پچاس برس سے زائد عرصہ تک حضُورِ والا غوثِ زمان قدس سّرہ کی خدمت میں علی الصباح سب سے پہلے قریباً ایک گھنٹہ تخلیہ میں شرفِ باریابی سے فیض یاب ہوتے رہے۔ اس کے بعد دیگر مخلوق کے لئے دربارِ عَام کُھلا رہتا تھا۔ البتہ بوقتِ ضُرورت آپکو دَربار میں طلب فرمالیا جاتا تھا۔

Untitled007 copy
ایک موقع پر ۱۹۱۹ء میں حضرت اقدسؒ نے حسبِ ایما تمام صاحبزادگان اور خلفاء محبت، شفقت اور اعتماد کے ساتھ بذریعہ تحریری ارشاد نامہ (بمعہ دستخط بقلم خود) مکمل اِختیارات گدّی اور دیگر اُمور آں موصُوف کے سُپرد فرما دیئے تھے۔ جواَب تک موجود ہیں۔ اور یہ خدمت حضرت اقدس سرّہ کی آخر عمر تک آپ ہی کے سپُرد رہی اور بعد میں بموجب ارشاد حضور والا قدس سّرہ آپ کے ختم چالیسویں پر ایک عام اجلاس میں تمام فرزندانِ حضرتِ والا نے بالاتفاق آپ ہی کو حسبِ سابق ناظم گدّی و جمہُوری نظام مقررّ کیا۔ چند سال تک یہ سلسلہ قائم رہا مگر بعد میں صَاحبزادگان حضرت قدس سرّہ اس کے پابند نہ ہو سکے۔ اس لئے حضرت پیر محمد نصیر الدین (پیر ثانی صَاحب) نے  مستقل طور پر اپنے مکان پر ہی سلسلہء طریقت و رُشد و ہدایت جاری فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہر طرف سے بے نیاز کر دیا۔ ہر طرف سے ہزاروں طالبین آتے اور فیض یاب ہو کر جاتے اِس طرح باقاعدہ طور پر آپ کا سِلسلۂ گدی علیحدہ جاری ہو گیا۔ جو بفضلہ تعالیٰ ہمیشہ‘ جَاری رہے گا اور تشنگانِ رُوحانیت و طالبانِ ہدایت سیراب ہو کر جاتے رہیں گے۔ حضرت قدس سرّہ نے حضرت پیر محمد نصیر الدین صَاحب کو پیر ثانی کا خطاب بخشا تھا۔ حضُور والا کی تو جہاتِ خاصہ کی برکت سے پیر ثانی صَاحب آخر وقت تک تمام خدمات لنگر، گدّی اور آنے والی مخلوق خدا کی خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں۔

والحمد و للہ رب العالمین 

 ثانی قاسم محمد نصیر الدین خان ہیں
بعد قاسم ارضِ موہڑہ کے یہ دل و جان ہیں
حضورِ اقدس جناب پیر محمد نصیرالدین صاحب رحمۃ اللہ علیہ ماہ جُون ۱۸۷۰؁ء بروز بُدھ بمقام موہڑہ شریف پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے والدِ گرامی اور چند مقتدر علماءِ کرام سے حاصل کی۔ ۱۷ برس کی عمر میں دینی تعلیم سے فارغ ہو گئے تھے۔ حضُور غوث الامت سرکار موہڑی رحمۃ اللہ علیہ نے تمام اُمورِ لنگر و گدّی آپؒ کے سُپرد فر ما دیئے تھے۔ کیونکہ حضُور کی آپ پر خاص توجہ و عنایات تھیں۔ ہر دینی اور دنیوی کام میں سرکار موہڑویؒ اپنے اِس منظورِ نظر لختِ جگر کے مشورہ ہی سے فرماتے تھے۔ بوجہ آپؒ کے امین، صاف گو، راستَ باز، دیانت دار اور وفا دار ہونے کے تقریباً ۵۰ برس سے زیادہ عرصہ حضُور سرکار موہڑویؒ کی خدمت میں اعلیٰ الصُبح سب سے پہلے تقریباً ایک گھنٹہ تخلیہّ میں شرف یاب ہُوا کرتے تھے۔ بعد میں مخلوقِ خدا کے لئے دربارِ عالیہ کُھلا رہتا۔ اِس کے بعد طلبی پر حاضر ہوئے۔ ایک موقع پر ۱۹۱۹ ؁ء میں حضُورِ اقدس سرکار موہڑویؒ خواجہ محمد قاسم ؒ نے بوجہ اعتماد ، مُحبت اور شفقت بذریعہ تحریری اِرشاد نامہ (دستخط بقلم خود) تمام اختیارات متعلق گدّی و دیگر اُمور طور پر آپ ؒ کے سپرد فرما دیئے تھے۔ اور پیر ثانی کا لقب بھی عطا فرما(یعنی میرے بعد میرے جانشین اور میرے جیسے ہی آپ پیر ہوں گے) حضور سرکار موہڑیؒ کے وصال کے بعد ختم چالیسواں پر تمام اولاد اور مریدین نے آپؒ ہی کو سجادہ نشین تسلیم کر لیا اور مزار اور دربارآپ کی تحویل میں دے دیا گیا۔ جس کی تعمیر آپ ہی کی سر پرستی میں ہوئی۔ خلفاء و عقیدت مندوں نے ہزاروں روپے نذرانہ برائے

تعمیر پیش کیاجو کہ مزار مبارک کی تعمیر پر خرچ کیا گیا۔

01

دربارِعا لیہ موہڑہ شریف کا پرانی تصویر جس کو پیر ثانی سرکارؒ کے خود تعمیر کروایا تھا۔

مخلوقِ خدا کی خدمت اور تبلیغ دین فرماتے رہے۔ اور ہزاروں کی تعداد میں مخلوقِ خُدا آپؒ سے فیض یاب ہوتی رہی۔ آپؒ کی یک صَد ساَلہ زندگی صرف خدمت خلق اور تبلیغ دین میں گذری۔ آپؒ کا ارشاد ہوا کرتا تھا کہ ولی کی شناخت صرف یہی ہے کہ وہ شریعت مُحمدی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر سختی سے پابند ہو۔ اور اِسی شریعت کی دعوت مخلوق کو دے۔ کرامات وغیرہ نہیں دیکھنا چاہیے۔ اور آپؒ کی صَد سالہ زندگی میں کوئی بھی عمل خلافِ شریعت نہ ہُوا۔ اور نہ ہی کبھی کسی فرد کی دلآزاری کی، مگر کسی نے زیادتی بھی کی تو صبرکیا۔ اور یہی تعلیم اپنے عقیدت مندوں کو دیتے تھے۔

Untitled002 copy

 

وصال، و تدفین
گفتہء اُو گفتہ اللہ بود!
گرچہ از حلفوم عَبدُاللہ شود

 حضُور غوث الامٹ سرکار موہڑویؒ نے اپنے لختِ جگر حضُورِ اقدس حضرت محمدّ نصیر الدین صَاحب کو ثانی سرکار موہڑویؒ کا خطاب دیا تھا۔ تو ان کے ارشاد کیمطابق حضُور ثانی سرکا ر موہڑویؒ اپنے والد کی سُنت کی ادائیگی فرماتے رہے اور یکم ، دوم، سوم ہاڑ اور ۵،۶،۷ مگھر مقررہ تواریخ پر حضُور سرکار موہڑویؒ کے وصال کے بعد بھی ان ہی تواریخ پر عُرس منعقد فرماتے رہے۔ کبھی کسی وجہ سے بھی تبدیلی نہیں فرمائی۔ آخر حضور سرکار موہڑوی کے وصال کے ۲۷ سال بعد ماہِ جُون کی ۱۱ تاریخ کو آپؒ علیل ہوئے اور ۱۴ جُون۱۹۷۰ بروزاتوار صُبح ۴ بجے مطابق یکم ہاڑ سہ بکرمی، آپ ؒ کا وصال ہوا۔ اور یہ غوثِ وقت سو سال تک، صبر و توکل اور تبلیغ دین میں زندگی بسر کر کے اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملا۔

انا للہ و انا الیہ راجعون

sani sarkar roza imeg

آپؒ کو رسولِ خدا فخرِ موجودات محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ سلم سے اس قدر عشق تھا کہ اگر کوئی ذکر محبوبِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چھیڑتا تو آپ (رحمۃ اللہ علیہ) کی آنکھوں سے آنسو بہنا شروع ہو جاتے تھے۔ اور عشقِ رسُول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور سنتِ محمدیؐ کی اطاعت کی انتہا یہ تھی کہ وصال کے بعد بھی ادائیگی سُنت ہوتی رہی اور جسطرح کہ تاجدار مدینہ جناب محمدّ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مزار کے ساتھ اُن کے پہلو میں اُن کے خلیفۂ اوّل جناب حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ، کا م زار مُبارک ہے اِسی طری جناب حضُور ثانی سرکار موہڑویؒ کا مزارِ مُبارک اپنے والی و مُرشدِ طریقت جناب سرکار موہڑویؒ نے حضرت خواجہ محمد قاسم کے ساتھ اندر پہلو میں ہوا۔ سُبحان اللہ کیا کہنے ان اللہ کے نیک بندوں کے کہ ان کا کوئی لفظ حقیقت سے خالی و کرامت سے خالی نہیں ہوتا۔ سرکارِ موہڑویؒ نے فرمایا تھا کہ میرے ثانی آپ ہیں تو ثابت ہُوا کہ آپؒ حضُور سرکار موہڑویؒ کے ثانی ہوئے۔ یعنی ایک عُرس ۵،۶،۷ مگھر میں سرکار موہڑویؒ کا وصال ہوا۔ اور دُوسرا عُرس اپنے ثانی جناب پیر محمد نصیر الدینؒ کو دے دیا یعنی یکم ہاڑ عُرس والے دن آپؒ کا وصال ہوا۔ اِس طرح دوسرا عُرس اب ہر سال یکم،دوم،سوم ہاڑ حضرت ثانی کا ہوا کریگا : اپنے پہلو میں لے لیا جیسا کہ اُن کی زندگی میں اُ ن کے ساتھ ہر وقت رہتے تھے۔ اب بھی اپنے ساتھ گود میں لے لیا اس سے ثابت ہوا کہ حضور سرکار موہڑویؒ خواجہ محمد قاسمؒ صحیح جانشین منظور نظر، لختِ جگر اور ان کے ثانی جناب پیر محمد نصیر الدین ہی ہیں۔

Mohra sharif Official urdu © 2016